The Knight’s Prologue & Tale
|
1. The Knight’s Prologue & Tale
|
|
|
The Knight Prologue
A noble fighter who served in the Crusades. He travels with
his son, the Squire. The Knight tells the first tale, a romantic tale of a
love triangle between two knights and a woman they both love.
He is considered a man of high repute, venerated and
courteous. He is dressed conservatively in stained clothes of coarse fabric.
He has had victories all over the continent but is modest with his words and
conduct.
The Knight's Tale
Part 1
After marrying Hippolyta, the queen of Scythia, and conquering
the kingdom of Amazons, Theseus, the prince, comes back to Athens with his
sister, Emelye, to find out the Creon, the lord of the town, has refused to
bury or burn the dead bodies of the soldiers.
Seeing women crying in such situation over their husbands’
bodies, Theseus swears vengeance and kills Creon. While disposing of the dead
bodies, two of them, belonging to Arcite and Palamon, were found alive.
Theseus ordered them to be imprisoned for life and passed
their time in prison until one day when they saw Emelye. Both of the falls in
love with her and began to fight with each other.
On the request of his childhood friend and a prince who
already knows Arcite and Palamon, Theseus frees Arcite on the condition that
he remain in exile forever.
A question is posed in the tale when Palamon envies Arcite for
he thinks Arcite has the chance to raise an army to conquer Theseus and
Arcite laments his inability to go near Emelye: who has it worse?
Part 2
Arcite disguises himself to go to Athens when, one day, after
two years, he sees god Mercury in his dream telling him to do so.
Arcite joins Theseus’ court as Emelye’s steward under the name
of Philostratus. He’s so loved that he is made squire of the chamber by
Theseus. Palamon, on the other hand, escapes the prison after seven days with
the aim of coming back under a disguise.
On the same morning, Arcite goes horse riding and cries
outside for his love for Emelye. Palamon overhears him and discloses his real
identity. Both of them to meet the same place tomorrow to fight till death
over Emelye.
Next morning when they’re fighting they’re stopped by Theseus
who has come for a walk with Hippolyta and Emelye. Palamon reveals the
identity of Arcite and also tells that both of them love Emelye.
Theseus orders them to be killed but the two ladies seeing how
much they love Emelye get filled with compassion and request Theseus to
forgive them. Theseus decides that they fight each other having hundred
soldiers on each side with them and that whoever wins will marry Emelye.
Part 3
Before the night of the battle, Palamon prays to Venus, the
goddess of love, to let Arcite kill him if he’s the one to marry Emelye.
Emelye prays to Diana for the friendship between both friends for she doesn’t
want any blood to shed because of her and if she has to marry let her marry
the who desire her the most. Arcite prays to mars for the victory in the
battle.
Saturn interferes when Venus and Mars begin to fight against
each other saying that Palamon would have his lady but Mars would help
Arcite.
On the day of the battle, Palamon brings Lycurgus, the
king of Thrace, to fight with him, while Arcite brings Emetreus, the king of
India.
Part 4
In the battle, Palamon is seized by Emetreus and he pierced
his sword in him. Theseus declares the victory of Arcite. Seeing this Venus
gets angry but Saturn assure her, like Mars, she would receive her share as
well.
After being victorious, Arcite is met by an Earthquake sent by
Pluto, his horse gets frightened by the earthquake and falls, throwing Arcite
off wounded to death. Arcite tells Emelye, at the end of his life, that
Palamon is the most suitable husband for him.
In the end, Palamon marries Emelye, and knight’s tale ends on
such a happy note.
|
نائٹ کا تعارف
وہ ایک معزز جنگجو ہوتا ہے جو کہ سلیبی جنگوں میں اپنی جرات و بہادری کے
جوہر دکھاتا ہے ۔
وہ اپنے بیٹے سکوائر کے ساتھ سفر کرتا ہے ۔
نائٹ کینٹربری کے جملہ زائرین میں
سے وہ واحد زائر ہے جسے سب سے پہلے اپنی کہانی سنانے کا اعزاز حاصل
ہوتا ہے
اسے عظیم شہرت کا حامل انسان ہے ' لیکن اپنے لباس کے معاملے میں وہ قدرے لا
پرواہ ثابت ہوا ہے۔
نائٹ کی کہانی
حصہ 1
امیزون کی سلطنت کو
فتح کرنے اور ستھیا کی ملکہ ہپپولیٹا سے شادی کرنے کے بعد ، شہزادہ تھیسیئس اپنی
بہن ایمیلی کے ساتھ' اس شہر کے بادشاہ کریئون کو ڈھونڈنے کے لئے ایتھنس واپس آتا
ھے ۔
وہ فوجیوں کی لاشیں
دفنانے یا جلانے سے انکار کردیتا ھے۔
ایسی حالت میں خواتین
کو اپنے شوہروں کی لاشوں پر روتے ہوئے دیکھ کر تھیسیئس انتقام کی قسم کھاتا ہے
اور کریئون کو مار دیتا ہے۔ لاشوں کی تلفی کے دوران ، دو افراد ، آرسائیٹ اور
پالامون ملتے ہیں، جو زندہ بچ جاتے ہیں۔
تھیسیئس انہیں عمر
قید کی سزا کا حکم سناتا ھے
آرسائیٹ اور پالامون'
اپنی قید کا پہلا دن جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار ہی رھے ھوتے ہیں کہ انھیں جیل
کی کھڑکی سے ایک خوبصورت دوشیزہ ' ایمیلی نظر آجاتی ھے ' اور دونوں کو اس سے
پہلی ہی نظر میں پیار ھو جاتا ھے اور وہ جیل ہی میں ایمیلی کی محبت میں ایک
دوسرے سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔
تھیسیئس ' ایک شہزادہ
کی درخواست پر جو آرسائیٹ کے بچپن کا دوست بھی ھے اور آرسائیٹ اور پالامان دونوں
کو پہلے سے ہی جانتا ھے ، آرسائیٹ کو صرف اس شرط پر رہا کردیتا ھے کہ وہ ہمیشہ
کے لئے جلاوطنی میں رہےگا۔
کہانی میں ایک سوال
اس وقت جنم لیتا ھے۔ جب پلامون' آرسائیٹ سے یہ سوچ کر حسد کرتا ھے اس کے پاس تھیسیئس
کو فتح کرنے کے لئے ایک فوج بنانے کا موقع ہے اور دوسری طرف آرسائیٹ اس بات پر
افسوس کا اظہار کررھا ھوتا ھے کہ وہ' ایمیلی کے قریب جانے سے قاصر ہے
تو پھر دونوں میں سے
بدقسمت کون ہے؟
حصہ 2
دو سال بعد ، ایک روز
جب آرسائیٹ ایتھنز جانے کے لئے بھیس بدلتا ہے ، تو خواب میں وہ ' خدا مرکری کو
دیکھتا ہے جو اسے کہتا ھے کہ وہ بالکل سہی کر رھا ھے اور اسے ایسا ہی کرنا چاہیے
۔
آرسائیٹ ' فلاسٹریٹس
کے نام سے ایمیلی کے مینیجر کی حیثیت سے تھیسیئس کی عدالت میں شامل ہوتا ہے۔ وہ
اتنا پیار دیتا ہے کہ تھیسیئس اسے اپنے چیمبر کا سکوائر بنا دیتا ہے۔
دوسری طرف ، پلامون
بھی کسی نہ کسی طرح بھیس بدل کر واپس آنے کی غرض سے ' سات دن بعد جیل سے فرار
ہونے میں کامیاب ھو جاتا ھے ۔
اسی صبح ، آرسائیٹ
گھوڑے پر سوار کہیں دور نکل جاتا ھے اور ایمیلی کی محبت میں زار و قطار روتا ہے۔
پالامون اسے دیکھ لیتا ھے اور اس کی آواز سنتا ہے اور اسے پہچان لیتا ھے اور اس
کی اصل شناخت ظاہر کر دیتا ہے۔ دونوں اگلے دن اسی جگہ پر ' ایملی کی محبت کی جنگ
لڑنے کا پروگرام بنا تے ہیں۔
اگلی صبح جب وہ لڑ رہے
ھوتے ہیں تو تھیسیئس جو' ہپولٹا اور ایمیلی کے ساتھ سیر کر رھا ھوتا ھے انھیں
روکتا ھے۔ پالامون ' تھیسیئس کے سامنے آرسائیٹ کی اصل شناخت ظاہر کرتا ہے اور یہ
بھی بتاتا ہے کہ وہ دونوں ایمیلی سے بہت پیار کرتے ہیں۔
پہلے تو تھیسیئس
دونوں کو مارنے کا حکم دیتا ھے لیکن ' ہیپولٹا اور ایمیلی کو' ان کی محبت کا راز
جان کر ان پر ترس آ جاتا ھے اور وہ تھیسیئس سے ان دونوں کو معاف کر دینے کی
درخواست کرتی ھیں ۔ تھیسیئس انھیں معاف کر دیتا ھے اور یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ
دونوں ' سو فوجیوں کے دستے کہ ساتھ آپس میں ایک جنگ لڑیں گے اور جو ان میں سے
جیتے گا وہ ایمیلی سے شادی کرے گا۔
حصہ 3
لڑائی کی رات سے پہلے
، پالامون ' محبت کی دیوی ، وینس سے دعا کرتا ہے کہ اگر ایمیلی کی شادی آرسائیٹ
سے ھونے والی ھے تو اچھا ھے کہ وہ پہلے ہی آرسائیٹ کے ہاتھوں سے قتل کر دیا
جائے۔
ادھر ایمیلی ' دیوی
ڈیانا سے دونوں کی دوستی کی دعا کرتی ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ اس کی وجہ سے
کوئی خون خرابہ ھو اور اگر کوئی شادی کرنا بھی چاہتا ھے تو وہی کرے جو مجھے سب
سے بڑھ کر چاہتا ھے
جبکہ آرسائیٹ جنگ میں
فتح کے لئے مریخ سے دعا کرتا ھے۔
جنگ کے روز ' پلامون
تھریس کے بادشاہ لائی کارگس کو اور آرسائیٹ ہندوستان کے بادشاہ ایمیٹریئس کو جنگ
میں لڑنے کے لئے لے آتے ہیں۔
حصہ 4
لڑائی میں ، پلامون
کو ایمیٹریئس پکڑ لیتا ھے اور اپنی تلوار اس کے جسم میں گاڑ دیتا ھے ۔
تھیسیئس ' آرسائیٹ کی
فتح کا اعلان کرتا ھے۔
فتح یاب ہونے کے بعد
، آرسائیٹ پلوٹو خدا ' کے بھیجے ہوئے زلزلے کی لپیٹ میں آ جاتا ھے ، اور اس کا
گھوڑا اس زلزلے سے اتنا خوفزدہ ہوتا ھے کہ وہ وہیں زمین پر گر جاتا ھے ، اور
آرسائیٹ کو بھی زخمی حالت میں ہلاک کردیتا ھے۔
آرسائیٹ اپنی زندگی
کے آخری لمحات میں ایمیلی کو بتاتا ھے کہ پلامون ہی اس کے لئے سب سے زیادہ مناسب
شوہر ہے۔
کہانی کے آخر میں ،
پالامون ' ایمیلی سے شادی کر لیتا ھے ، اور نائٹ کی کہانی ہنسی خوشی اپنے اختتام
کو پہنچتی ھے۔
|

Comments
Post a Comment